مالی امور
بغیر درخواست فیس والی یونیورسٹیاں: پاکستانی طلبہ کے لیے (2027)
برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا، امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی 27 یونیورسٹیاں جو پاکستانی طلبہ سے درخواست فیس نہیں لیتیں یا معاف کرتی ہیں، سرکاری صفحات سے جانچ کر۔
تحریر: 47 Fellows ٹیم · بیچلرز · ماسٹرز · پی ایچ ڈی · 4 منٹ کا مطالعہ ·
کسی دوست یا والدین کے ساتھ شیئر کریں
بیرونِ ملک داخلے کی ہر درخواست پر عموماً فیس لگتی ہے، اور پانچ چھ یونیورسٹیوں میں درخواست دینے سے داخلہ ملنے سے پہلے ہی ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کئی معروف یونیورسٹیاں پاکستانی طلبہ سے درخواست کی کوئی فیس نہیں لیتیں۔
21 اکتوبر 2026 کو ہم نے 40 سے زیادہ مشہور یونیورسٹیوں کے سرکاری داخلہ صفحات پڑھے اور 27 ایسی یونیورسٹیاں پائیں جو کسی نہ کسی سطح پر فیس نہیں لیتیں، یا ایسی صورتوں میں معاف کرتی ہیں جن پر پاکستانی طلبہ پورا اتر سکتے ہیں۔ مکمل فہرست، ملک اور سطح کے فلٹر کے ساتھ، ہمارے بغیر درخواست فیس والی یونیورسٹیاں صفحے پر ہے۔
بغیر فیس اور فیس معافی میں فرق
- بغیر فیس: اس سطح پر درخواست دینے والا کوئی بھی فیس نہیں دیتا، کچھ مانگنا یا ثابت کرنا نہیں پڑتا۔ مثلاً سعودی عرب کی KAUST، ناروے کی NTNU (ماسٹرز) اور برطانیہ کی University of Kent (پوسٹ گریجویٹ)۔
- فیس معافی: یونیورسٹی فیس لیتی ہے لیکن بتائی گئی صورتوں میں معاف کر دیتی ہے۔ عموماً درخواست دینی پڑتی ہے اور فیصلہ یونیورسٹی کرتی ہے۔ مثلاً Imperial College London مالی مشکل ثابت کرنے پر 90 پاؤنڈ کی فیس معاف کرتا ہے۔
بہت سی یونیورسٹیاں ایک سطح پر مفت اور دوسری پر فیس والی ہیں، اس لیے فہرست میں ہر سطح الگ دکھائی گئی ہے۔
پی ایچ ڈی کی درخواست اکثر مفت ہوتی ہے
اگر آپ کا بچہ پی ایچ ڈی کے لیے درخواست دے رہا ہے تو یہ بات اہم ہے۔ کئی یونیورسٹیاں جو تدریسی ماسٹرز کی فیس لیتی ہیں، ریسرچ ڈگری پر کچھ نہیں لیتیں: Imperial، UCL اور Warwick (برطانیہ)، Melbourne، UNSW اور Adelaide (آسٹریلیا)، اور University of Nottingham Ningbo China۔
ملک کے حساب سے
- برطانیہ: Sheffield تدریسی ماسٹرز پر فیس نہیں لیتی۔ Kent پوسٹ گریجویٹ پر فیس نہیں لیتی۔ Bristol صرف بزنس اسکول اور اکنامکس کے ماسٹرز پر 60 پاؤنڈ لیتی ہے، اور اس کی 2027 کی پالیسی کم یا درمیانے ترقیاتی درجے والے ممالک کے شہریوں کو مستثنیٰ کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2025 کی رپورٹ پاکستان کو کم درجے میں رکھتی ہے۔ یاد رکھیں: آکسفورڈ کی فیس معافی کی فہرست میں پاکستان شامل نہیں۔
- ناروے اور جرمنی: NTNU ماسٹرز کی درخواست پر فیس نہیں لیتی، لیکن یورپ سے باہر کے طلبہ سے ٹیوشن فیس لیتی ہے۔ جرمنی میں University of Bonn اور University of Stuttgart درخواست مفت لیتی ہیں، مگر بہت سی جرمن یونیورسٹیاں uni-assist کے ذریعے درخواست مانگتی ہیں جو پہلے پروگرام کے 75 یورو لیتا ہے۔
- فن لینڈ، ڈنمارک اور نیدرلینڈز اب فیس لیتے ہیں: پرانے بلاگ انہیں مفت بتاتے ہیں، لیکن جنوری 2025 سے فن لینڈ غیر یورپی امیدواروں سے 100 یورو لیتا ہے، اور کوپن ہیگن، DTU، گروننگن اور ٹوینٹی بھی فیس لیتی ہیں۔
- آسٹریلیا: Charles Darwin University اور University of Notre Dame Australia آن لائن درخواست پر فیس نہیں لیتیں۔
- امریکہ: انڈرگریجویٹ کے لیے Illinois Tech، Saint Louis University، Union College اور Illinois Wesleyan فیس نہیں لیتیں۔
- چین: USTC اور Duke Kunshan University بین الاقوامی انڈرگریجویٹ سے فیس نہیں لیتیں۔
- سعودی عرب اور امارات: KAUST ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی درخواست پر کچھ نہیں لیتی۔ MBZUAI انڈرگریجویٹ سے فیس نہیں لیتی، اور ماسٹرز و پی ایچ ڈی میں اسکریننگ امتحان میں 75 فیصد یا زیادہ پر 200 درہم کی فیس معاف کرتی ہے۔ KAUST کی فنڈنگ کے لیے ہمارا KAUST فیلوشپ صفحہ دیکھیں۔
مفت درخواست کا مطلب مفت تعلیم نہیں
درخواست فیس سب سے پہلا اور سب سے چھوٹا خرچ ہے۔ ٹیوشن، ویزا، ہیلتھ انشورنس اور رہنے کا خرچ الگ ہیں۔ پورا خرچ روپوں میں دیکھنے کے لیے ہمارا کاسٹ کیلکولیٹر استعمال کریں، اور HEC اور IBCC کی تصدیق کے مراحل کاغذات پلانر میں دیکھیں۔
والدین کے لیے دو اہم باتیں
- درخواست صرف یونیورسٹی کی اپنی ویب سائٹ پر: اگر کوئی ایجنٹ ان یونیورسٹیوں میں "پروسیسنگ فیس" لے کر درخواست دلوانے کی پیشکش کرے تو یہ پیسے یونیورسٹی نہیں مانگ رہی۔ ہماری فہرست صرف سرکاری صفحات سے لنک کرتی ہے۔
- فیسیں ہر سال بدلتی ہیں: ہم فہرست کا ہر صفحہ کم از کم ہر چار ماہ بعد دوبارہ پڑھتے ہیں اور ہر اندراج پر تاریخ لکھتے ہیں۔ درخواست والے دن سرکاری صفحہ ضرور دیکھیں، وہی حتمی ہے۔
اگلا قدم
فہرست کھولیں، اپنے بچے کی سطح اور ملک چنیں، اور دیکھیں کہ اس کی پسندیدہ یونیورسٹیوں میں سے کون سی مفت ہیں، کون سی فیس معاف کرتی ہیں اور کون سی فیس لیتی ہیں۔ پھر آخری تاریخیں ہمارے ڈیڈ لائن کیلنڈر پر دیکھیں۔
