رسمی خط
اسپانسر لیٹر کا نمونہ: بیرونِ ملک تعلیم کے لیے والدین کی مالی معاونت
اسٹوڈنٹ ویزا یا یونیورسٹی کے لیے پاکستان میں مقیم والدین کی طرف سے مالی کفالت کے خط کا نمونہ، اور اس کے ساتھ لگنے والے بینک کے کاغذات۔
تحریر: 47 Fellows ٹیم · بیچلرز · ماسٹرز · پی ایچ ڈی · 6 منٹ کا مطالعہ ·
کسی دوست یا والدین کے ساتھ شیئر کریں
یہ کب استعمال کریں
اگر آپ کی اسکالرشپ جزوی ہے، یا صرف ٹیوشن فیس کور کرتی ہے مگر رہنے سہنے کے اخراجات نہیں، تو آپ کو یونیورسٹی اور ویزا آفس کو دکھانا ہوگا کہ باقی خرچ کون اٹھائے گا۔ جب والدین یا کوئی قریبی رشتہ دار خرچ اٹھاتا ہے تو وہ ایک sponsorship letter لکھتے ہیں (جسے کبھی affidavit of support یا financial undertaking بھی کہا جاتا ہے) اور اس کے ساتھ اپنی بینک اسٹیٹمنٹس اور آمدنی کا ثبوت لگاتے ہیں۔
ہر ملک کے اپنے اصول ہیں اور یہ اکثر بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کچھ بھی تیار کرنے سے پہلے موجودہ تقاضے ضرور چیک کریں:
- UK: رقم عموماً مسلسل 28 دن تک اکاؤنٹ میں رہنی چاہیے، اور اگر اسپانسر والدین ہیں تو انہیں رشتے اور رضامندی کی تصدیق کرنے والا خط دینا ہوتا ہے، ثبوت کے طور پر آپ کے birth certificate یا NADRA کے Family Registration Certificate (FRC) کے ساتھ۔
- جرمنی: زیادہ تر طلبہ کو رہنے سہنے کے اخراجات ایک blocked account میں جمع کروانے ہوتے ہیں؛ صرف اسپانسر لیٹر کافی نہیں، اگرچہ والدین اس اکاؤنٹ میں رقم ڈال سکتے ہیں۔
- US: یونیورسٹیاں I-20 جاری کرنے سے پہلے پہلے سال کے فنڈز کا ثبوت مانگتی ہیں۔
- کینیڈا اور آسٹریلیا: ویزا افسران حال ہی میں جمع کروائی گئی بڑی رقوم کے ذریعے (source) کو بغور دیکھتے ہیں۔
ویزا افسران اور یونیورسٹیاں کیا دیکھتی ہیں:
- اسپانسر کون ہے اور آپ سے ان کا کیا رشتہ ہے
- وہ کتنی رقم دیں گے، اور کتنے عرصے کے لیے
- ثبوت کہ رقم واقعی موجود ہے اور جائز طریقے سے کمائی گئی ہے
- خط، بینک اسٹیٹمنٹ اور ویزا فارم کی معلومات میں یکسانیت
نمونہ
یہ نمونہ انگریزی میں ہے کیونکہ اسکالرشپ اور ویزا کی درخواستیں انگریزی میں لکھی جاتی ہیں؛ اسے کاپی نہ کریں، بلکہ اپنا خط اپنے الفاظ اور اپنی اصل معلومات کے ساتھ لکھیں۔
[Date]
To the Visa Officer / Admissions Office, [Embassy, High Commission or University name]
Subject: Financial sponsorship for my son, Hamza Ali, Passport No. [number]
I, Ali Raza, holder of CNIC No. [number], residing at [full address], Rawalpindi, Pakistan, confirm that I am the father of Hamza Ali, born on [date of birth], holder of Pakistani Passport No. [number].
Hamza has been offered admission to the [MSc Data Science] programme at [University name], [country], beginning in [September 2027]. He has also been awarded a [tuition fee scholarship of GBP X / 50% fee waiver], which covers [describe what it covers].
I will pay all remaining costs of his studies, including the balance of tuition fees of [currency and amount], and living expenses of [currency and amount] per [month / year], for the full duration of the programme, which is [12 months / two years]. I will also pay for his travel and visa costs.
I am a [Senior Engineer at XYZ Company, Islamabad / owner of ABC Traders, Rawalpindi], with a monthly income of PKR [amount]. The funds for Hamza's studies are held in my account No. [number] at [Bank name], [Branch], which currently holds PKR [amount], equal to about [currency and amount]. The money comes from my salary, my savings and the sale of a plot in [month, year], for which the sale deed is attached.
I give my consent for Hamza to travel to [country] and to use these funds for his studies.
Enclosed are:
- Bank statement for the last [six] months, stamped and signed by the bank
- Bank maintenance certificate dated [date]
- My employment letter and last three salary slips / my tax returns (NTN [number]) for the last [two] years
- Family Registration Certificate (FRC) from NADRA confirming our relationship
- Copy of my CNIC
- Sale deed for the plot sold in [month, year]
I can be contacted at [phone] or [email] for verification.
[Signature] Ali Raza CNIC No. [number]
اسے اپنے مطابق کیسے ڈھالیں
- بالکل وہی رقم لکھیں جو آپ کے آفر لیٹر اور ویزا کے اصولوں میں ہے، اسی کرنسی میں، اور موجودہ ریٹ پر PKR میں اس کے برابر رقم بھی دکھائیں۔
- حال ہی میں جمع ہونے والی کسی بڑی رقم کی وضاحت کریں۔ اگر رقم زمین، گاڑی یا سونا بیچ کر آئی ہے، یا کسی کمیٹی (ROSCA) سے، تو اس کا ثبوت لگائیں۔ بغیر وضاحت کے جمع ہونے والی رقوم ویزا ریجیکشن کی ایک عام وجہ ہیں۔
- مہر اور دستخط والے بینک کاغذات استعمال کریں، اور یقینی بنائیں کہ اکاؤنٹ ہولڈر کا نام اسپانسر کے CNIC سے ملتا ہو۔
- اگر اسپانسر والدین نہیں ہیں، جیسے چچا/ماموں یا بڑا بھائی، تو کچھ ممالک انہیں قبول نہیں کرتے؛ پہلے چیک کریں، اور رشتے کا ثبوت بھی لگائیں۔
- ٹیکس ریکارڈ مددگار ہوتا ہے۔ ایک فعال NTN اور جمع شدہ ریٹرنز سے آمدنی کی تصدیق آسان ہو جاتی ہے۔
- کچھ سفارت خانے یہ خط اسٹامپ پیپر پر اور تصدیق شدہ (attested) مانگتے ہیں۔ اپنے ملک کی چیک لسٹ دیکھیں۔
عام غلطیاں
- بینک اسٹیٹمنٹ میں موجود رقم سے زیادہ کا وعدہ کرنا۔
- درخواست سے چند ہفتے پہلے اچانک بڑی رقم جمع ہونا، بغیر کسی وضاحت کے۔
- اسپانسر کے اکاؤنٹ میں بڑی رقم ہونا مگر آمدنی کا کوئی واضح ذریعہ نہ ہونا۔
- خط، CNIC، پاسپورٹ اور بینک کاغذات میں ناموں کے ہجے مختلف ہونا۔
- ایک ملک کے لیے لکھا گیا خط کسی دوسرے ملک کی درخواست میں استعمال کرنا۔ رقم کتنے عرصے تک اکاؤنٹ میں رہنی چاہیے، اس کے اصول مختلف ہوتے ہیں۔
یہ بھی دیکھیں: ویزا اور روانگی سے پہلے کی چیک لسٹ اور فُلی فنڈڈ اور جزوی اسکالرشپس کی وضاحت۔
